دلی میں مبینہ گینگ ریپ: پولیس کا 11 لوگوں کی گرفتاری کا دعویٰ، ملزمان پر متاثرہ خاتون کا سر منڈوانے، چہرے پر سیاہی ملنے کا بھی الزام

دلی پولیس نے بتایا کہ ایف آئی آر میں 11 لوگوں کو نامزد کیا گیا اور گرفتار ہونے والوں میں نو خواتین بھی شامل ہیں۔ دلی پولیس نے یہ بھی بتایا کہ جلد ہی مزید گرفتاریاں کی جائیں گی۔

Date:

Share post:

الزام ہے کہ خاتون کا سر منڈوا کر، چہرے پر سیاہی مل کر اور جوتوں کا ہار پہنا کر سڑک پر تماشا بنایا گیا ہے۔ متاثرہ لڑکی کی عمر 20 سال بتائی جاتی ہے۔

دلی پولیس نے بتایا کہ ایف آئی آر میں 11 لوگوں کو نامزد کیا گیا اور گرفتار ہونے والوں میں نو خواتین بھی شامل ہیں۔ دلی پولیس نے یہ بھی بتایا کہ جلد ہی مزید گرفتاریاں کی جائیں گی۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق بدھ کو لڑکی کے شوہر نے پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دی۔ وہ موقع پر موجود نہیں تھے اور ان کے مالک مکان نے انھیں اس بارے میں اطلاع دی۔

پولیس نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی وہ موقع پر پہنچے اور لڑکی کو بچا کر تھانے لے آئے۔

پولیس نے آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیا ہے، جس میں گینگ ریپ، مار پیٹ، جنسی حملہ اور مجرمانہ سازش کے الزامات بھی شامل ہیں۔

 

علامتی تصویر

متاثرہ لڑکی کی بہن کا بیان

خاتون کی بہن نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ پڑوس کے ایک لڑکے نے گزشتہ سال نومبر میں خودکشی کر لی تھی۔ لڑکے کا دعویٰ تھا کہ وہ اس لڑکی سے محبت کرتا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اُس لڑکے کے گھر کے لوگ اپنے بیٹے کی موت کا ذمہ دار ان کی بہن کو ٹھہراتے تھے۔

لڑکی کی چھوٹی بہن نے کہا کہ ان کی بہن کو گزشتہ سال نومبر سے ڈرایا اور ہراساں کیا جا رہا تھا۔ نومبر میں ہی ایک ملزم کے بیٹے نے ریلوے ٹریک پر جا کر خودکشی کر لی تھی جب ان کی بہن نے مبینہ طور پر اسے ٹھکرا دیا تھا۔

پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق لڑکے کے گھر والوں نے مبینہ طور پر بدلہ لینے کی قسم کھائی تھی۔

متاثرہ لڑکی کی بہن نے بتایا کہ بدھ کو ان کی بہن انھیں گیہوں دینے آ رہی تھیں اور انھیں معلوم نہیں تھا کہ کچھ لوگ ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔ ’کچھ کے ہاتھوں میں لاٹھی تھی اور ایک عورت کے ہاتھ میں قینچی بھی تھی‘۔

انھوں نے بتایا کہ جب وہ ان کے گھر پہنچی اور انھیں باہر سے آواز لگائی تبھی ان کے سامنے ہی ان کی بہن کو زبردستی ایک آٹو رکشا میں اغوا کر لیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’انھوں نے میرا موبائل فون چھین لیا تاکہ میں اس کی اطلاع پولیس کو نہ دے سکوں۔ انھوں نے میری آنکھوں کے سامنے میری بہن کو اغوا کر لیا۔ گاڑی کے اندر انھوں نے میری بہن کے بال کاٹنا شروع کر دیے۔ انھیں ایک گھر میں لیجا کر اندر سے گھر کو تالا لگا دیا، اس کا سر مونڈ دیا گیا، اسے بری طرح مارا پیٹا گیا اور میری بہن کے ساتھ غلط کام کیا گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ملزمان نے ان کے بھانجے کو بھی اغوا کیا تھا لیکن وہ کسی طرح اسے چھڑانے میں کامیاب ہو گئیں۔ انھوں نے اپنے بھتیجے کو ایک گھر میں چھپا رکھا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کی جان کو خطرہ ہے۔

 

علامتی تصویر

پولیس کی ایف آئی آر

متاثرہ لڑکی کی بہن نے کہا کہ میری بہن کے ساتھ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو کوئی اس کی مدد کے لیے نہیں آیا، خوف کے سبب کوئی پڑوسی اسے بچانے نہیں آیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں نامزد تمام 11 ملزمان کا تعلق شراب کے غیر قانونی کاروبار سے ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں دو نوجوان بھی شامل ہیں جن پر ریپ کا الزام ہے۔

متاثرہ لڑکی کی شادی سنہ 2018 میں ہوئی تھی اور وہ اپنے تین سال کے بیٹے کے ساتھ دلی کے آنند وہار علاقے میں کرائے کے مکان میں رہتی ہیں۔

ان کی بہن کا کہنا تھا کہ ’ہر مرتبہ جب بھی وہ دھمکیاں دیتے تھے، وہ پولیس کو مطلع کرتی تھیں اور یہ معاملہ باہمی رضامندی سے حل ہو جاتا تھا لیکن کسی کو امید نہیں تھی کہ میری بہن پر کھلے عام ایسا حملہ کیا جائے گا۔‘

ان بہنوں کے والد فالج کا شکار ہیں اور اکثر بیمار رہتے ہیں جبکہ والدہ کا انتقال 2020 میں دل کا دورہ پڑنے سے ہو گیا تھا۔ تب سے گھر کی تمام ذمہ داریاں بڑی بہن پر آ گئی تھیں۔

متاثرہ لڑکی کے والد نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’میری بیٹی کی شادی کے وقت کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا، پچھلے ایک سال سے وہ اسے ہراساں کر رہے تھے، وہ مجھے اور میری بیٹیوں کو دھمکیاں دے رہے تھے لیکن میں کیا کر سکتا تھا۔ بستر پر پڑا ہوا تھا۔

 

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

انصاف کا مطالبہ

اس واقعے کے بعد سے متاثرہ لڑکی کے رشتے دار اور گاؤں کے لوگ انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مقتولہ کے دادا دادی کا کہنا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ مجرموں کو سخت سے سخت سزا ملے۔ ایسا واقعہ اس ملک میں کسی بھی بیٹی کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔‘

دلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے جمعرات کو اس واقعہ کو شرمناک قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت سے پولیس کو سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دینے کی اپیل کی۔

دلی کے خواتین کمیشن نے اس واقعے کے سلسلے میں دلی پولیس کو نوٹس جاری کیا اور دیگر ملزمین کی گرفتاری کے لیے جلد اقدامات کا مطالبہ کیا۔

اس سے قبل شاہدرہ علاقے کے دلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر آر ستھیو سندرم نے بتایا تھا کہ ’شاہدرہ ضلع میں باہمی دشمنی کی وجہ سے ایک خاتون پر جنسی زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور واقعے کی تفتیش کی جا رہی ہے اور متاثرہ لڑکی کو کاؤنسلِنگ اور دیگر طرح کی امداد دی جا رہی ہے۔‘

 

بی بی سی سے لیا گیا

Related articles

Cyclone Arnab Explained: How Ocean Linguistics Meet Climate Chaos

Why is a cyclone named Arnab, and who chooses these storm names? Discover how 13 countries contribute culturally rooted names to the North Indian Ocean’s cyclone naming system and why naming storms matters for communication, public awareness and disaster preparedness.

15-Person Family, 12 Names Deleted: Trilokpuri Door-to-Door Audit Flags 416 Wrongful Voter Exclusions

A public hearing in Delhi’s Trilokpuri heard testimonies from voters deleted during SIR, as an MKSS-led audit flagged 416 alleged wrongful deletions. Rahul Gandhi, Dipankar Bhattacharya, Prashant Bhushan and Yogendra Yadav attended the hearing, where residents raised concerns over voter exclusion and demolitions.

SIR Fallout Reaches Bengal’s Civic Polls as Opposition Demands January 2027 Deadline

Nearly 1.6 lakh voter appeals remain pending in Kolkata and Howrah following SIR deletions. A broad coalition of opposition parties, civil rights groups and public figures has urged the West Bengal State Election Commission to delay municipal polls until January 2027 and include voters whose appeals are awaiting tribunal decisions.

Lula, Gen Z and the Algorithm: Who Owns the Battle for Democracy?

From Lula’s victory in Brazil to Neha Bora’s emergence in India’s student protests, this opinion examines how social media algorithms, corporate interests and media sensationalism shape Gen Z activism, political narratives and the struggle for democracy.