تاریخ فراموش نہیں کی جاتی

یاد رکھیں جو فرقہ اپنی تاریخ کو بھولنے اور ترک کرنے کے رجحان میں مبتلا ہو وہ اسی تاریخ کی زد میں آنے کے خطرہ سے دو چار رہتا ہے  اور ایسا ہو تو زیادہ بڑا المیہ رونما ہوتا ہے۔

Date:

Share post:

ایودھیا میں متبادل مجوزہ مسجد میں ایک ایسا عجائب گھر بنانے کی ضرورت ہے جس میں روز اول سے ابتک بابری مسجد کی شہادت کی پوری سچّی تاریخ محفوظ کی جائے۔فرنگیوں سے لے کر کانگریس تک یکے بعد دیگرے بننے والی حکومتوں اور  ترقی پسند اتحاد اور قومی جمہوری محاذ  اور بی جے پی تک جو گندی، ریا کارانہ سیاست کا کھیل کھیلا گیاوہ بھی محفوظ کیا جائے اور یہ بھی ریکارڈ کیا جائے کہ  بابری مسجد کی مسماری کےبعد کس طرح ملک میں کثرت پسند فسطائی طاقتوں کو عروج ملا اور کیسے  مابعد شہادت گجرات، اتر پردیش، مہا راشٹر، بہار اور بقیہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نسل کشی کے واقعات ہوئے اور ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف دہشت کا بازار گرم کیا گیا۔ اس کا بھی بیان ہو کہ عدالت  نے اکثر یتی فرقہ  کی اجتماعی ضد کی تسکین کی غرض سے انصاف کی پامالی کا ارتکاب کیا۔ یہ بھی بتایا جائے کہ نام نہاد آزاد فکر شہری معاشرہ نے کیسی پتھریلی خاموشی سے یہ سب کچھ ہوتے دیکھا۔

یہ عجائب گھر بناتے وقت یاد رکھا جائے کہ جیسے یہودیوں نے  ہولوکاسٹ کے بعد اوش وز میوزیم بنایا اسی طرح ہمیں بھی میوزیم بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ان دلالوں کی بات نہیں سنّی جو دیدہ و دانستہ چیزوں کی طرف سے غفلت برت کر انہیں مسلم فرقہ کے اجتماعی حافظہ سے مٹا دینے کیلئے اس پر سہل پسندانہ زور دے رہے ہیں کہ جو ہوا سو ہوا، ماضی کا قیدی بنے رہنے میں عقلمندی نہیں ، ہمیں آگے کی طرف دیکھنا چاہئے۔

جی درست ہمیں آگے بڑھنا چاہیے، یہ لازمی ہے لیکن اس کا مطلب قطعی یہ نہیں کہ ہم اپنی تاریخ مکمل فراموش کر دیں۔ اسرائیل وقت کے لپیٹے میں تھم نہیں گیا لیکن یہودیوں نے سینکڑوں فلموں، ڈراموں، افسانوں، ناولوں اور یادداشتوں میں اپنے ادب، ثقافت اور آرٹ میں اپنے اُوپر ہونے والے مظالم کی چھوٹی سے چھوٹی تفصیل درج کرتے ہوئے اسے یقینی بنایا کہ ظلم اور ناانصافی کی ایک چھوٹی سی چھوٹی واردات بھی چھوٹ نہ جائے اور ہر تفصیل آنے والی تمام نسلوں تک پہنچتی رہے۔ آپ تصور کریں، این فرینک کی ڈائری  اب 70 سے 80سال گزر جانے کے بعد بھی ہندوستان سمیت پوری دنیا  میں آسکولی بچوں کے نصاب میں جا گزین  ہے۔

یاد رکھیں جو فرقہ اپنی تاریخ کو بھولنے اور ترک کرنے کے رجحان میں مبتلا ہو وہ اسی تاریخ کی زد میں آنے کے خطرہ سے دو چار رہتا ہے  اور ایسا ہو تو زیادہ بڑا المیہ رونما ہوتا ہے۔

اس لئے میں یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ اس مجوزہ مسجد کی اراضی پر اور جو کچھ بنانے کا منصوبہ ہے، بنایا جائے مگر مظالم کی تاریخ کا میوزیم بھی تیار کیا جائے

Related articles

Dear Gen Z: To Build a Better India, Protest Against Hate

Beyond the NEET protest, Gen Z challenged India's politics of hate by keeping the focus on accountability and constitutional values. The movement also exposed difficult questions about equal citizenship and Muslim participation in democratic protests

From UCC to ‘Hindu Rights’: How the Madhya Pradesh Debate Took a Majoritarian Turn

Madhya Pradesh became the fourth BJP-ruled state to pass a Uniform Civil Code, but the Assembly debate quickly shifted from women's rights to Hindu rights, with slogans, identity politics and ideological messaging overshadowing discussions on legal reform.

Years After IIT Kharagpur Student Faizan Ahmed’s Homicide, Mother Meets Bengal Chief Minister

Weeks after eNewsroom highlighted Rehana Ahmed's desperate wait for an appointment, the mother of slain IIT Kharagpur student Faizan Ahmed is finally set to meet West Bengal Chief Minister Suvendu Adhikari. She hopes the meeting will help revive the long-stalled homicide investigation ordered by the Calcutta High Court

“You Asked the Wrong Questions”: Why Activists Say ‘Godi Media’ Became Part of the Story at Kolkata Protest

As journalists alleged attacks during the Kolkata protest, activists told eNewsroom that the deeper issue was how sections of the mainstream or 'Godi Media' ignored students' demands, choosing provocative narratives over questions about repeated exam controversies and police action.