انڈین امریکیوں کا کرناٹک میں غیر آئینی، اسلامو فوبک حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج

سو سے زیادہ لوگوں نے، جن میں خواتین سب سے آگے ہیں، کرناٹک حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلم طالبات کے ساتھ امتیازی سلوک کو فوری طور پر بند کرے، جنہیں ان کے حجاب اتارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

Date:

Share post:

واشنگٹن، ڈی سی: ہندوستانی امریکی مسلمانوں نے ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں کرناٹک ہائی کورٹ کی جانب سے اسکولوں میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا۔

سو سے زیادہ لوگوں نے، جن میں خواتین سب سے آگے ہیں، کرناٹک حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلم طالبات کے ساتھ امتیازی سلوک کو فوری طور پر بند کرے، جنہیں ان کے حجاب اتارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

عدالت کا یہ عبوری حکم ریاست کرناٹک کے کئی کالجوں کی طرف سے مسلم طلباء کو حجاب پہن کر کلاس رومز میں داخل ہونے سے روکنے کے بعد منظور کیا گیا، جس کی وجہ سے ملک گیر احتجاج اور بین الاقوامی تنقید ہوئی۔

ہیوسٹن میں مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ “حجاب ہمارا آئینی حق ہے،” “ہندوستان میں حجاب پر پابندی بند کرو”، “ہندوستان میں اسلامو فوبیا کو روکو”، “حجاب پر حملہ مسلمان لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنے کی سازش ہے،” اور “بھارت میں حجاب پر پابندی ہے۔ رنگ برنگی.”

spot_img

Related articles

City of Joy Raises a Quiet War Cry: “Give No Benefit to BJP”

Kolkata civil society launches “Give No Benefit to BJP” campaign, urging voters to unite and back candidates who can defeat BJP, citing fear, division, and threats to Bengal’s harmony

Jawhar Sircar’s Stark Warning: “BJP Threatens Bengal’s Soul, SIR Undermines Votes

Jawhar Sircar calls SIR illegal, alleges voter deletions, attacks BJP as anti-India, criticises EC and Supreme Court, and urges Bengal voters to prioritise development and credible alternatives over identity politics.

Two Journeys, One Vote: While Some Migrant Workers Get Support, Thousands Struggle Home

A surge of migrant workers returning to West Bengal amid SIR fears is straining transport, as thousands undertake costly journeys to ensure their names remain on voter lists.

Soil, Dreams, and an Erased Name: A Professor, and the Word ‘Deleted’

From village scholar to Kolkata professor, my life was built on service. Now, Bengal’s SIR process threatens to erase my identity and my son’s future with one word: ‘Deleted.