لتا منگیشکر کی آخری رسومات: شاہ رخ خان اور ان کی مینیجر کی وائرل تصویر اور اس پر تنازع

ممبئی کے ’شیوا جی پارک‘ میں لتا منگیشکر کے جسد خاکی کو آخری دیدار کے لیے رکھا گیا تھا جہاں شاہ رخ خان اپنی مینیجر کے ساتھ پہنچے اور اپنے انداز میں انھوں نے میت کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی۔

Date:

Share post:

اتوار کی شام لتا منگیشکر کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے جہاں بالی وڈ کے بہت سے مشاہیر پہنچے وہیں ’بالی وڈ کے بادشاہ‘ کہے جانے والے سپر سٹار شاہ رخ خان بھی موجود تھے۔

ممبئی کے ’شیوا جی پارک‘ میں لتا منگیشکر کے جسد خاکی کو آخری دیدار کے لیے رکھا گیا تھا جہاں شاہ رخ خان اپنی مینیجر کے ساتھ پہنچے اور اپنے انداز میں انھوں نے میت کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی۔

ان کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ اس تصویر میں وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے جبکہ اُن کی مینیجر پوجا ددلانی ہاتھوں کو عقیدت سے جوڑے نظر آ رہی ہیں۔

دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر انھوں نے ایک بار پھر اپنے مداحوں کا دل جیت لیا۔ گذشتہ روز لتا منگیشکر کے بعد کوئی موضوع اگر انڈین سوشل میڈیا پر زیر بحث تھا تو وہ شاہ رخ خان کی اس موقع پر لی گئی تصویر ہی تھی۔

بہت سے لوگوں نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے اس کے ساتھ ’مائی انڈیا‘ بھی لکھا جس کے بعد ’مائی انڈیا‘ بھی سرفہرست ٹرینڈز میں سے ایک ہے۔

بہت سے صارفین نے اس تصویر کو انڈیا کی عکاسی کرتی ہوئی ’نمائندہ تصویر‘ قرار دیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں شاہ رخ خان کچھ پڑھ کر لتا کی میت پر پھونکتے ہیں اور ان کی منیجر بھی جھک کر میت سے اظہار عقیدت کرتی ہیں۔

بہت سے لوگوں نے اس تصویر کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ افسردہ ماحول میں لی گئی تصویر ہے لیکن یہ آج کی بہترین تصویر ہے اور ’یہی میرا انڈیا ہے۔‘

انسٹاگرام پر ایک صارف نے لکھا ’ایک ہی دل ہے کتنی بار جیتو گے خان صاحب!‘ جبکہ ایک نے لکھا کہ ’انھوں نے سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹ کرنے کے بجائے وہاں جا کر اظہار عقیدت پیش کرنے کا فیصلہ کیا، آخر بلاوجہ تو کنگ نہیں۔‘

بہر حال وہاں پہنچنے والوں میں عامر خان، رنبیر کپور اور ودیا بالن وغیرہ جیسی دیگر بالی وڈ شخصیات بھی تھیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’شاہ رخ بھائی کے لیے دل میں اور بھی عزت بڑھ گئی ہے۔ واقعی شریف انسان ہیں۔‘

بہر حال اس کہانی میں ایک موڑ اس وقت آیا جب انڈیا کی ریاست ہریانہ میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے آئی ٹی محکمے کے سربراہ ارون یادو نے شاہ رخ خان کا کلپ شیئر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’کیا اس نے تھوکا ہے؟‘

اس ٹویٹ کے جواب میں بے شمار ٹویٹس کیے گئے اور لوگ ارون یادو کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے ایسے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو اُن کے مطابق اس قسم کے متعصبانہ نظریے رکھتے ہیں کہ انھیں دعا کا پھونکنا بھی تھوکنا نظر آتا ہے۔

صحافی ابھینو پانڈے لکھتے ہیں کہ دعا کی پھونک میں نفرت کا تھوک تلاش کرنے والے لوگوں کی آنکھ میں ایک خاص قسم کی رتوندھی ہے۔ نہ جانے کہاں سے آتے ہیں!‘

ممبئی کانگریس کے صدر چرن سنگھ سپرا نے شاہ رخ خان کی وہ تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: ’سیکولرزم کی بہترین مثال۔ فرقہ پرست بھکت کیوں پریشان ہیں۔ شاہ رخ خان، یہ انڈیا کا تصور ہے۔‘

صحافی شروتی سونل نے لکھا: ’یہ کس قدر حیرت انگیز ہے کہ شاہ رخ کا اپنا وجود اور اس کا ایک چھوٹا سا (معنی خیز) کام بھی اس ملک میں نہ جانے کتنے متعصب ذہنوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔‘

صحافی ہیمانشی نے لکھا کہ ’شاہ رخ خان جیسا کوئی نہیں اور کوئی ہو گا بھی نہیں۔ آپ کی نفرتیں ہمیں ان سے مزید محبت اور ان کا احترام کرواتی ہیں۔ آپ کو شرم آنی چاہیے۔‘

بہت سے لوگوں نے شاہ رخ خان کی فلم ’مائی نیم از خان‘ کا ایک کلپ بھی شیئر کیا ہے جس میں وہ اپنے بچے کو دعا پڑھ کر پھونک رہے ہیں اور پوچھا کہ ’کیا شاہ رخ اپنے بچے پر بھی تھوک رہے ہیں۔‘

بہت سے لوگوں نے لکھا ہے کہ اگر آپ محبت نہیں کر سکتے تو برائے مہربانی نفرت نہ اگلیں۔

اداکارہ سوارا بھاسکر نے لکھا: ’ہر روز یہ نفرتی چنٹو، اپنی نفرت کو جہالت میں چھپا کر اپنی تنگدلی کا ثبوت دیتے ہیں۔ شاہ رخ خان تو پھر بھی دعا پھونک رہے ہیں لیکن ان نفرت پرست لوگوں کی ذہنیت اس ملک سے باہر تھوکے جانے کے ہی لائق ہے۔‘

لتا منگیشکر نے شاہ رخ خان کی کئی فلموں میں آواز دی ہے۔ ان میں ’دل والے دلہنیا لے جائيں گے‘، ’دل تو پاگل ہے‘ اور ’دل سے‘ شامل ہیں۔ تبھی کئی صارفین یہ کہتے پائے گئے کہ لتا اور شاہ رخ کا تعلق دل کا ہے۔

لتا منگیشکر نے ایک بار شاہ رخ کی اداکاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’شاہ رخ مختلف انداز کے کردار کے لیے اداکاری کر سکتے ہیں۔ فلم ڈر اور بازی گر میں وہ ولن ہیں تو دل والے دلہنیا لے جائیں گے میں انھوں نے رومانوی ہیرو کے کردار کی از سر نو تعریف کی ہے۔

’ایک اداکار کے طور پر میں رشی کپور کو پسند کرتی ہوں۔ وہ ہمیشہ شاندار رہے ہیں، ایک اچھے ڈانسر اور خوبصورت بھی۔ میں نے عامر خان کی فلم تارے زمین پر دیکھی۔ وہ ایک اچھے ہدایتکار اور بہت اچھے اداکار ہیں۔ میں انھیں اپنے دوست کی طرح سمجھتی ہوں۔‘

بی بی سی سے لیا گیا

Related articles

Suspected Cattle Thieves or Victims of Mob Justice? Two Dead, Survivors Arrested in Siliguri

Two men were killed and three critically injured after a mob allegedly attacked five travellers in Siliguri over suspected cattle theft. Police arrested the three survivors and seven others in connection with the violence, while questions remain over what triggered the attack.

गांधी की पत्रकारिता और आज की वायरल दुनिया: मायने क्या रखता है—रीच या असर?

गांधी की पत्रकारिता और आज की वायरल दुनिया के बीच क्या बदला? eNewsroom Conclave में जवाहर सरकार, प्रतीक सिन्हा, राशिद किदवई, अरफा खानम शेरवानी समेत वक्ताओं ने स्वतंत्र मीडिया, एल्गोरिद्म और पत्रकारिता के बदलते सरोकारों पर चर्चा की

Gandhi Had Newspapers. We Have Algorithms. What Would He Make of Today’s Media?

Gandhi had newspapers; today’s journalists have algorithms. At the inaugural eNewsroom Conclave, journalists and public voices explored what happens when clicks, virality and Big Tech influence what people see, while independent media struggles to keep public-interest journalism alive.

Echoes of a Crisis: Why Biswajit Roy’s Tagore and Palestine Still Matter Today

Biswajit Roy’s Palestine, Arab-Jewish Relations and Rabindranath explores Tagore’s ideas on nationalism, imperialism, religion and coexistence. At a time of war and civilian suffering in Gaza, the book offers a deeply humanist lens through which to understand Palestine’s history and the crisis today