33 C
Kolkata
Saturday, May 25, 2024

احسان جعفری کو یاد رکھنا کیوں ضروری ہے؟

فروری 2002ء میں انہوں نے راجکوٹ اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں نریندر مودی کی مخالفت کی۔ انتخابی مہم کی ایک عوامی تقریر میں انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ آ ر ایس ایس کے نریندر مودی کو ووٹ نا دیں۔ چند ہفتے بعد ان کا قتل کر دیا گیا۔

کرسٹوف جیفرولیٹ
ترجمہ:پروفیسر محمد سجاد

اب سے ٹھیک بیس برس قبل احسان جعفری کا قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ گجرات فسادات کی پہلی لہر تھی جس نے صوبے کے کئی شہروں کو تباہ کیا تھا۔ ان میں احسان جعفری کا شہر احمد آباد بھی شامل تھا۔جعفری نے ملک کی آزادی کی لڑائی بھی لڑی تھی۔ مزدور تحریک سے بھی منسلک رہے تھے، اور ادبی حیثیت کے بھی حامل تھے۔ ان کی پیدائش برہانپور میں ہوئی تھی، اور 1935 میں جب صرف چھ برس کی عمر تھی، وہ احمدآباد آ گئے تھے۔ ابھی آر سی ہائی اسکول کے طالب علم ہی تھے کہ ایک اردو رسالہ شائع کیا اور 1940 کی دہائی میں آزادی کی لڑائی میں شامل ہو گئے تھے۔ مزدور تحریک کے راہ نما کی حیثیت سے 1949 میں جیل میں بند کر دئے گئے تھے، کیوں کہ انہوں نے انقلاب کا نعرہ دیا تھا۔ رہا ہونے کے بعد وہ پروگریسیو ایڈیٹرس یونین کے جنرل سکریٹری منتخب یا مقرر ہو گئے، قانون کی ڈگری بھی حاصل کی اور احمدآباد کی عدالت میں وکالت کرنے لگے۔ سنہ 1969ء کے فسادات میں ان کا مکان نذر آتش کر دیا گیا اور ان کی فیملی ریلیف کیمپ میں منتقل ہو گئی۔ تقریباً اپنے پرانے مکان کے مقام پر ہی نیا مکان بنایا۔ یہ احمدآباد شہر کا صنعتی علاقہ تھا، اور بوہرا ہاؤسنگ ایسوسی ایشن، گلبرگ سوسائٹی بھی قائم کیا۔

جعفری کیلئے 1969 ایک اہم سال تھا۔ فرقہ وارانہ تشدد کے تریاق کے لئے وہ سیکولر سیاست میں سرگرم ہو گئے۔ انہوں نے اندرا کی کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور 1972ء میں احمدآباد کانگریس کے صدر مقرر ہوئے۔ سنہ 1977ء میں وہ احمدآباد لوک سبھا حلقے کے ایم پی منتخب ہوئے۔ اندرا کی کانگریس تب خاصی غیر مقبول پارٹی تھی، گجرات کی 26 نشستوں میں صرف 10 پر کانگریس کامیاب ہوئی تھی۔ ان سے قبل اور ان کے بعد کوئی مسلمان اس صوبے سے ایم۔ پی۔ منتخب نہ ہو سکا۔ جعفری بھی دوبارہ کبھی کوئی الیکشن نہیں لڑے۔ شعروادب اور عوامی سرگرمیوں سے منسلک رہے۔
فروری 2002ء میں انہوں نے راجکوٹ اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں نریندر مودی کی مخالفت کی۔ انتخابی مہم کی ایک عوامی تقریر میں انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ آ ر ایس ایس کے نریندر مودی کو ووٹ نا دیں۔ چند ہفتے بعد ان کا قتل کر دیا گیا۔

گلبرگ سوسائٹی پر جو حملہ ہوا تھا وہ پولیس کے جارحانہ رویے کی مثال ہے۔ سیٹیزن ٹریبونل کی رپورٹ نے یہ اجاگر کیا کہ گودھرا کے بعد ہونے والے حملوں کی سیریز میں گلبرگ سوسائٹی پہلا نشانہ تھی۔ پھر اس نے ایک پیٹرن کا روپ لے لیا۔ یہاں یقینی طور سے احسان جعفری ہی اہم نشانہ تھے۔ اس علاقے میں بے بسوں کے لئے ان کا کمپاؤنڈ ہی محفوظ ترین جگہ سمجھا جا سکتا تھا۔ آخر کار وہ سابق ایم پی جو تھے اور 1985 کے فسادات میں اعلی حکام نے انہیں تحفظ عطا کیا تھا۔ لہذا تناؤ بڑھنے پر آس پاس کے مسلمان ان کے کمپاؤنڈ ہی میں پناہ گزیں ہو گئے۔ ساڑھے سات بجے صبح وہاں لگ بھگ 200 لوگ پناہ لینے آ چکے تھے۔ ساڑھے دس بجے صبح وہاں پولس کمشنر پی۔ سی ۔ پانڈے آئے اور جعفری کو یہ بھروسہ دلایا کہ پولس ان کی حفاظت کرے گی۔ پولس کمشنر کے جانے کے پانچ منٹوں کے اندر ہی ظہیر بیکری اور ایک آٹو رکشہ جلا دیا گیا۔

گلبرگ سوسائٹی پر حملہ شروع ہو گیا۔ چشم دیدوں کے مطابق احسان جعفری اور ان کے ساتھ اخیر تک رہنے والی پارسی عورت لگاتار بیقراری کے ساتھ پولس سے گھنٹوں تک ٹیلیفون پر رابطہ کرتے رہے کہ خون کی پیاسی جنونی بھیڑ (لوگوں کی) حملہ آور تھی، لیکن جعفری کے گھر کے پاس کھڑی تین پولس گاڑیاں وہیں رہ کر بھی خاموش تماش بین بنی رہیں ۔ نو گھنٹوں بعد آر اے ایف والوں نے مداخلت کی۔ تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ گلبرگ سوسائٹی کے 69 لوگ مارے جا چکے تھے۔ ان مقتولوں میں احسان جعفری، ان کے تین بھائی اور دو بھتیجے بھی شامل تھے۔ بوہرا کمیونیٹی کے سربراہ سیدنا نے 2002 فسادات کے مظلوموں سے اپنی لاتعلقی اور دوری بنائے رکھی۔ احسان جعفری کے قتل کا ذکر تک کبھی نہیں کیا۔

بیس برسوں بعد ان کی موت کو یاد کیا جانا بہت اہم ہے۔ نہ صرف اس لئے کہ 2002 کے مظالم کی یادیں معدوم کی جا رہی ہیں اور تاریخ کے صفحات میں کھوتی جا رہی ہیں، بلکہ گجراتی سیاست کی جس روایت سے وہ ذاتی طور سے وابستہ تھے، اسے بھی فراموش کیا جا رہا ہے۔ جعفری کانگریس کے اس مخصوص مکتبہ فکر کا حصہ تھے جس کی داغ بیل اندو لال یاگنک نے 1920ء کی دہائی میں ڈالی تھی۔ جعفری اس روایت کے آخری امینوں میں سے تھے۔ یاگنک غریبوں سے ہمدردی رکھتے تھے۔ یہ ترغیب انہیں مہاتما گاندھی سے ملی تھی۔ لیکن یہ لوگ اب تنہا پڑ رہے تھے،کیونکہ گجرات کانگریس پر رفتہ رفتہ ہندو رجعت پسندوں کا غلبہ ہو نے لگا تھا۔ اس میں سردار پٹیل، کے ایم منشی، گلزاری لال نندا اور مرارجی ڈیسائی جیسے لوگ حاوی ہو رہے تھے۔ یاگنک تو 1920 کی دہائی میں ہی کانگریس سے الگ ہو گئے تھے۔ گاندھی جی بھی بے بس تھے اور انہیں روکنے کی کوشش تک نہیں کر سکے تھے۔ لیکن یاگنک اگلے پچاس برسوں تک گجرات میں روشن خیال سیاست کا مرکز بنے رہے۔ 1969ء کی کانگریس کی ٹوٹ کے بعد وہ اندرا کانگریس سے منسلک رہے، جب کہ ڈیسائی اور دیگر لوگ کانگریس (او )کے ساتھ رہے۔ 1957 سے 1971 تک کے الیکشنز میں احمد آباد حلقے سے یاگنک ہی منتخب ہوتے رہے۔ اسی سیٹ سے 1977ء میں جعفری منتخب ہوئے تھے۔جعفری گجرات کانگریس کے کوئی آخری ترقی پسند راہ نما نہیں تھے۔ جن لوگوں نے گجرات سیاست میں چھتریہ او بی سی، ہریجن، آدیباسی اور مسلمان کے بلاک بنائے تھے وہ لوگ اندولال یاگنک کے ہی معتقدین تھے۔ انہیں میں سے ایک مادھو سنگھ سولنکی 1980 کی دہائی میں گجرات کے وزیر اعلی بنے تھے۔سنہ 2022ء گجرات میں اسمبلی چناؤ کا سال بھی ہے۔ کیا کانگریس کا یہ مخصوص روشن خیال طبقہ اپنی واپسی درج کرا پائے گا؟ یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔

ہمارے دوسرے مواد کو چیک کریں۔

: دیگر ٹیگز چیک کریں:

مقبول ترین مضامین